بنیادی تعلیم ،مسائل اور حل؛ بلاگ نگاہ چارسو

بلاگ چوہدری ندیم اکرم ورک
منڈی بہاوالدین
بنیادی تعلیم

پرائمری سطح پر ہمارا تعلیمی نظام مفلوج ہو چکا ہے کوئی خاص کارکردگی نظر نہیں آ رہی
جہاں ہمارے ملک میں تعلیمی اخراجات کی مد افسوس ناک حد تک کم ہے وہیں اسکولوں کی تعداد میں کمی کے باعث اسکول جانے کے قابل آدھے سے زیادہ بچے اسکول میں داخلہ لینے سے محروم رہ جاتے ہیں
پرائمری اسکول میں اگر پہلی جماعت میں 100 بچے داخل ہوں تو ان کی تعداد دوسری میں 70 رہ جاتے ہیں تیسری میں 50 چوتھی 30 اور پانچویں میں وہی تعداد 20 کے قریب رہ جاتی ہے
یوں اس رفتار سے بچے اسکول چھوڑ رہے ہیں ۔مئی اکتوبر اور نومبر میں سب سے زیادہ بچے اسکول چھوڑتے ہیں
سوچنے کی بات ہے کہ اس کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں میرے مطابق چند اک وجوہات جو بنیادی وجہ بنتی ہیں
ان میں سے ایک پرائمری اسکول کی تعلیم کا معیار ناقص ہے اور ہماری آبادی زیادہ تر غربت کی حد چھو رہی ہے ۔ہمارے اکثر اسکول عمارت فرنیچر صاف پانی گراونڈ اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں
اکثر اسکولوں میں پانج کلاسوں کے لیے صرف دو اساتذہ ہوتے ہیں جو کہ کافی نہیں ہیں دو اساتذہ بچوں کو وقت پورا نہیں دے سکتے اور ہمارے دیہی علاقوں میں اساتذہ کی غیر حاضری عام ہے
اساتذہ کا بچوں کے ساتھ سلوک بھی سخت ہوتا ہے اوپر سے اساتذہ بچوں کو اپنے ذاتی کاموں میں لگائے رکھتے ہیں
آج ہی کی بات میں صبح میانوال رانجھا گیا تو وہاں کیا دیکھا کہ میرا چھوٹا کزن حسنات اصغر ورک جو پانچویں جماعت میں پڑھتا ہے وہ ہمیں اتنا لاڈلا ہے کہ ہم نے کبھی اس کو ڈانٹا تک نہیں نہ ہی کبھی گھر کا کام کاج کرنے دیا ہے وہ میانوال رانجھا سکندر کے سموسے پکوڑے لینے گیا ہوا تھا میں نے اس سے پوچھا تو وہ کہنے لگا سر نے بھیجا ہے ۔آپ سوچیں ہم بچوں کو پڑھنے بھیجتے ہیں یا اساتذہ کے ذاتی کام کاج کے لیے
اوپر سے یہ مسئلہ بھی کم نہیں کہ بچوں کو کانسپٹ سسٹم کے بجائے رٹاہ سسٹم کی طرف گامزن کیا جاتا ہے
خامیوں کی فہرست لمبی ہے مگر یہاں اتنی ہی لکھنا چاہوں گا
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پرائمری اسکول میں تعلیم کا رجحان کیسے بڑھا سکتے ہیں اس غلیظ سسٹم سے چھٹکارا کیسے پایا جاسکتا ہے
یہاں پر کچھ گزارشات رقم کرنا چاہوں گا
1۔پرائمری اسکول میں استاد موجود ہونا چاہیے استاد کی مناسب تربیت ہونی چاہے تاکہ اساتذہ اکرام اپنا رویہ تبدیل کر سکیں ۔پانج کلاسوں کے لیے استاد بھی پانج ہونے چاہیں ۔حاضری کو چیک کرنے کے لیے نگرانی کا نظام ٹھیک ہونا چاہیے
2۔ہر اسکول کی عمارت پانج کمروں ایک بنیادی کلاس روم اور تفریحی سہولتوں پر مشتمل ہونی چاہیے
3۔ پرائمری کا نصاب موجودہ معاشرے کی ضرورت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے ہنر اور پیشہ ورانہ نصاب مرتب کیا جائے ۔
4۔والدین کا ذہن تعلیم دوست بنانے اور معاشرے میں تعلیمی افادیت کا شعور دلانے کے لیے ملک گیر مہم چلائی جانی چاہیے
تو آئیے دوستوں اپنے تعلیمی نظام کو سدھارنے کے لیے عزم کریں اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں

Check Also

’کاں‘ اچانک ’چٹا‘ کیوں ہو جاتا ہے؟

کوے کا شمار انتہائی ذہین و فطین پرندوں میں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *