پڑھیے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل سے متعلق سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سے متعلق سپریم کورٹ کا مکمل فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔

جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سے متعلق کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے 20 اگست کو محفوظ کیا تھا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کا فیصلہ سنایا۔

25 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا ہے جسے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ مرحلہ نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کورٹ ویڈیو اور اس کے اثرات میں مداخلت کرے، بالخصوص متعلقہ ویڈیو کا تعلق اسلام آباد میں زیر التوا اپیل سے ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو لیکس کے معاملے پر ایف آئی اے نے تفتیش شروع کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات پر حکومت یا عدالت کی طرف سے کسی کمیشن کے قیام کی رائے کا کوئی فائدہ نہیں۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ جج ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا، ارشد ملک لاہور ہائی کورٹ کے ماتحت ہیں جو ڈیپوٹیشن پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ماتحت احتساب عدالت نمبر 2 میں تعینات ہوئے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ارشد ملک کو احتساب عدالت کے جج سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔ ارشد ملک کو اب تک لاہور ہائی کورٹ نہیں بھجوایا گیا ہے اس لیے محکمانہ کارروائی کا ابھی آغاز نہیں ہوا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک کی 7 جولائی کی پریس ریلیز اور 11 جولائی کا بیان حلفی ان کے خلاف فرد جرم ہے۔

Check Also

مقبوضہ کشمیر میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کے پوسٹرز آویزاں

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے پوسٹرز …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *