کیا وزیراعظم کے دورہ امریکا کے بعد شکیل آفریدی کیساتھ رویے میں تبدیلی رونما ہوئی؟

وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکا کے بعد پاکستان میں گرفتار پاکستانی نژاد امریکی جاسوس ڈاکٹر شکیل آفریدی کے اہل خانہ نے ان سے اُمیدیں وابستہ کر لی ہیں۔

جیل حکام نے اس ہائی پروفائل قیدی کے لیے قواعد و ضوابط نرم کر دیئے ہیں۔

شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے دورہ واشنگٹن کے بعد شکیل آفریدی کے بارے میں جیل حکام کے رویوں میں تبدیلی محسوس کی گئی۔

انہوں نے یہ بات شکیل آفریدی کے بھائی جمیل آفریدی اور دیگر اہلخانہ کے حوالے سے بتائی۔

شکیل آفریدی کو پشاور سینٹرل جیل سے ساہیوال جیل منتقل کیا گیا جس پر متعلقین نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

وکیل قمر نوید آفریدی کے مطابق ان کے مؤکل شکیل آفریدی سے جیل میں برا سلوک ہوتا تھا۔

سرکاری رائے لینے کے لیے رابطہ کرنے پر نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یہ تمام باتیں غلط اور بے بنیاد ہیں، حکومت قانون اور عدالتی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی، جیل کے اپنے ضابطے ہیں ان پر عمل کیا جاتا ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جیل میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو رہی۔

اس سے قبل اپنے دورے میں ایک امریکی ٹیلی ویژن کے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی کی حوالگی کے استفسار پر عمران خان نے کہا تھا یہ بڑا حساس معاملہ ہے، شکیل آفریدی پاکستان میں ایک جاسوس تصور کیا جاتا ہے، عافیہ کے بدلے شکیل آفریدی کو حوالے کرنے پر بات ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی جو پیشے کے اعتبار سے سرجن ہے، اسے مئی 2011 میں سی آئی اے کو اُسامہ بن لادن کی جعلی ویکسینیشن مہم کے ذریعے ایبٹ آباد میں نشاندہی پر گرفتار کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 2010 میں مختلف الزامات کے تحت امریکا میں 86 سال قید کی سزا دی گئی۔

وکیل قمر ندیم آفریدی نے بتایا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی اپیل پشاور ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے اور مقدمے کی باقاعدہ سماعت 24 ستمبر سے شروع ہو گی۔

ان کے خیال میں استغاثہ کمزور اور ٹھوس ثبوت کی کمی ہے، اس طرح شکیل آفریدی کے بری ہونے کا روشن امکان ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی بھی ایک درخواست سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہے، وہ عافیہ کی پاکستان منتقلی کے لیے امریکا سے بات چیت کے حوالے سے حکومتی ہدایات کی منتظر ہیں۔

دریں اثناء منگل کو پشاور ہائی کورٹ میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا گیا۔

درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے تناظر میں کسی مجرم کو دوسرے ملک منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

درخواست گزار محمد خورشید خان سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سابق اٹارنی جنرل ہیں۔

درخواست میں انہوں نے وفاقی حکومت کے ذریعے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹری امور خارجہ اور سیکرٹری داخلہ کو فریق بنایا ہے۔

دو صفحات پر مشتمل درخواست میں درخواست گزار نے وزیراعظم کا امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو منسلک کیا ہے جس میں عمران خان نے کہا تھا کہ عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی کو دیا جا سکتا ہے، یہ بات پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔

Check Also

اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: فواد چوہدری

لاہور: وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے پاکستان کے اسرائیل سے تعلقات قائم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *