چین کی امریکا کو نایاب دھاتوں سے محروم کرنے کی دھمکی

بیجنگ: چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا کی چین کے ساتھ تجارتی جنگ میں جوابی حملے کے طور پر نایاب دھاتوں کی برآمدات کم کرنے سے واشنگٹن ممکنہ طور پر سمارٹ فونز سے لے کر فوجی سازو سامان تیار کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایک اہم عنصر سے محروم ہوجائے گا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چیین کی برآمدات پر ٹیرف میں اضافے اور چین ٹیلی کام کمپنی ہواوےپر پابندی لگانے کے بعد جہاں تجارتی مذاکرات تحطل کا شکار ہیں وہاں یہ انتباہ تنازع میں استعمال کیا جانے والا تازہ ترین حربہ ہے۔

دوسری جانب ہوواوے نے قانونی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وفاقی محکموں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس کے آلات استعمال کرنے سے روکنے کے خلاف اپیل کے فیصلے کو جلد سنانے کے لیے بھی درخواست جمع کروادی۔

علاوہ ازیں چینی صدر زی جنگ پنگ کے نایاب دھاتوں کی فیکٹری کے دورے کی تصاویر دکھا کر بیجنگ پہلے ہی اس بات کی جانب اشارہ کرچکا ہے کہ نایاب دھاتوں کو تنازع میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

سرکاری میڈیا دی پیپلز ڈیلی، جو کمیونسٹ پارٹی کا ترجمان ہے، نے خبردار کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت یہ سوال پوچھ کر کی کہ ’کیا نایاب دھاتیں امریکی جارحیت کے خلاف چین کا جوابی ہتھیار ثابت ہوں گی، اس کا جواب پراسرار ہے‘.

اخبار کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم امریکا کو مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے ترقیاتی حقوق اور مفادات کے تحت چین کی قابلیت کو کم نہیں سمجھے پھر مت کہنا کہ ہم نے تمہیں خبردار نہیں کیا‘۔

ایک دوسرے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے اداریے میں لکھا گیا کہ ’امریکا چین کو نایاب دھاتوں کے حوالے سے اقدام پر مجبور کرنے پر پچھتائے گا‘۔

واضح رہے کہ ان نایاب دھاتوں میں اس وقت مکمل طور پر چینی کی اجارہ داری ہے جو دنیا کی کل پیداوار کا 95 فیصد فراہم کرتا ہے اور امریکا اس کی 80 فیصد درآمد کے لیے چین پر انحصار کرتا ہے۔

یہ نایاب دھاتیں 17 عناصر پر مشتمل ہیں جو موبائل فونز سے لے کر ٹیلی ویژن اور کیمرا سے لائٹ بلب بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اس ضمن میں نیشنلسٹ ٹیبلوائڈ کا کہنا تھا کہ ’یہ بات یقینی ہے کہ اگر امریکا چین کی ترقی پر دباؤ بڑھائے گا تو جلد یا بدیر چین نایاب دھاتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرے گا‘۔

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو سے جب نایاب دھاتوں کے حوالے سے خطرے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کاکہنا تھا کہ ’امریکا پہلے ہی حالیہ اصولوں کے تحت دہائیوں سے مشکلات کا سامنا کررہا ہے اور اب ٹرمپ حکومت کا واحد مقصد چین کو پیچھے دھکیلنا ہے‘۔

ہواوے پر ایک بار پھر وار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کی چینی ریاست کے ساتھ ’گہرے رابطے‘ ہیں جو امریکی نظام کے ساتھ نہیں چل سکتے۔

مائیک پومپیو کے مطابق ’اگر ایسا معاملہ ہو کہ چینی کمیونسٹ پارٹی ٹیکنالوجی کمپنی سے کوئی معلومات لینا چاہے جو ہواوے کے پاس ہو تو یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ ہواوے انہیں فراہم کردے گی‘۔

اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے ہواوے نے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی حکومت نے یہ بات ثابت کرنے کے لیے کوئی شواہد فراہم نہیں کیے کہ ہواوے سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے‘۔

Check Also

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 2 فلسطینی جاں بحق

اسرائیلی پولیس نے مغربی کنارے پر باڑ کے قریب 16 سالہ جبکہ ایک علیحدہ واقعے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *