ایران کی ایک لڑکی کو148کوڑے مارنے کی سزا،اسے یہ سزا کیوں دی گئی اور اسکا جرم کیا تھا ؟

تہران (پی پی این مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں لڑکیوں کو کوڑوں سے بچانے کی کوشش کرنے والی وکیل خاتون ہی کو 38سال قید اور 148کوڑوں کی سزا سنا دی گئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق 55سالہ نسرین ستودہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ممتاز ایرانی وکیل ہیں جو ماضی میں بھی سیاسی قید بھگت چکی ہیں۔

گزشتہ سال دو لڑکیوں کے حجاب کی پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں کھلے عام اپنے حجاب اتار دیئے تھے جس پر ان دونوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ عدالت میں نسرین ستودہ نے ان لڑکیوں کی وکالت کی اور انہیں کوڑوں کی سزا سے بچانے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے فوری بعد گزشتہ سال جون میں نسرین ستودہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا اور ان کا ملک کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے، سپریم لیڈر کی توہین کرنے اور جاسوسی کرنے جیسے الزامات کے تحت عدالتی ٹرائل کیا گیا جس میں اب انہیں 38سال قید اور 148کوڑوں کی سزا سنا دی گئی ہے۔

نسرین ستودہ کے شوہر رضا خاندان نے فیس بک پر ایک کھلے خط کے ذریعے ان کی سزا کے متعلق بتایا۔ ان کی رہائی کے لیے ایک آن لائن پٹیشن بھی دائر کی گئی ہے جس پر اب تک 1لاکھ 19ہزار 977افراد دستخط کر چکے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے مشرق وسطی و جنوبی افریقہ سارا لی وٹسن سمیت متعدد انسانی حقوق کے کارکنوں نے نسرین ستودہ کی سزا پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے عہدیدار فلپ لرتھر کا کہنا تھا کہ نسرین نے اپنی تمام زندگی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتے اور سزائے موت کے خلاف آواز اٹھاتے گزاری۔ انہیں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے پر سزا دے دی گئی ، جس پر اپنے احساس بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ نسرین ستودہ کو 2010ءاور 2013ءمیں بھی قید رہ چکی ہیں۔

Check Also

افغان پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے اپنے ہی 7 ساتھیوں کو قتل کر ڈالا

قندھار: افغان پولیس اہلکار نے اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کر کے 7 اہلکاروں کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *