چین کی مذہب کے حوالے سے پالیسیز پر امریکا کی تنقید،بیجنگ سراپا احتجاج

امریکی سفیر برائے بین الاقوامی آزادی مذہب کی جانب سے بیجنگ کی مسلمانوں اور تبت کے بدھ مت اقلیتوں کے حوالے سے پالیسیوں پر ریمارکس پر چین نے احتجاج کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ میں دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ سیم براؤن بیک کی تقریر میں چین کی مذہبی پالیسیوں کو ’بدنام‘ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے چین کے نیم خد مختار خطے جہاں یہ تقریر کی گئی تھی، میں امریکی سفارت خانے سے بد اعتمادی ظاہر کردی ہے۔

امریکی حکام اور اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا تھا کہ چین 10 لاکھ یوغور، مسلمانوں اور دیگر مسلم گروہوں کے اراکین کو زنجیانگ کے سیاسی تعلیمی کیمپوں میں قید کرنے کا الزام ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کیمپ ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز ہیں جنہیں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

براؤن بیک کا کہنا تھا چینی حکومت ’ایمان سے جنگ‘ میں ہے اور انہوں نے مذہب پر قید کیے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

Check Also

افغان پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے اپنے ہی 7 ساتھیوں کو قتل کر ڈالا

قندھار: افغان پولیس اہلکار نے اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کر کے 7 اہلکاروں کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *