کیا سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطل ہو جائے گی۔۔؟

اسلام آباد: العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئی درخواست دائر کردی گئی۔

درخواست خواجہ حارث ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی، جس میں قومی احتساب بیورو (نیب)، احتساب عدالت اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کوفریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ سزا کے خلاف زیر سماعت اپیل کے فیصلے تک احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کیا جائے اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا معطل کرکے نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کیا جائے۔

درخواست کے ساتھ اسپیشل میڈیکل بورڈ کی 17 جنوری کی رپورٹ بھی جمع کرائی گئی ہے۔

واضح رہےکہ کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف کا چند روز قبل جیل میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے طبی معائنہ کیا تھا جس میں امراض قلب کے ماہرین بھی شامل تھے۔

بعدازاں مختلف میڈیکل ٹیسٹ کے لیے جناح اسپتال بھی نمونے بھجوائے گئے تھے جبکہ دل کے ٹیسٹ کے لیے سابق وزیراعظم کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

بعدازاں پی آئی سی میں نواز شریف کا طبی معائنہ کیا گیا، جہاں ان کے خون کے نمونے لینے کے ساتھ ساتھ دل کے 3 ٹیسٹ کیے گئے، جن میں ای سی جی، ایکو اور تھیلیم ٹیسٹ شامل ہیں۔

ایکو کی رپورٹ میں نواز شریف کے دل کا سائز معمول سے بڑا پایا گیا جب کہ دل کے پٹھوں کے موٹے ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔

جس کے بعد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا تھا کہ میڈیا رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ ان کے والد کی بیماری بڑھ رہی ہے اور ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت سے ملنے والی 7 سال قید کی سزا کو معطل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، جس کی سماعت 18 فروری کو ہوگی۔

Check Also

اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: فواد چوہدری

لاہور: وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے پاکستان کے اسرائیل سے تعلقات قائم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *