یمنی حکومت اور حوثی حدیدہ شہر کیلئے جنگ بندی پر رضا مند

رمبو(پی پی این مانیٹرنگ ڈیسک) یمن کی حریف جماعتوں نے حوثیوں کے زیر اثر ساحلی شہر حدیدہ کے لیے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کرلیا اور شہر سے اپنی افواج نکالنے پر راضی ہوگئے۔

یمن کی دونوں حریف جماعت کے درمیان جنگ بندی 5 برس سے جاری تنازع میں اقوام متحدہ کی قیادت میں کی جانے والی امن کی کوششوں کی پہلی اہم کامیابی ہے۔

سویڈن میں ایک ہفتے کے مذاکرات کے اختتام پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیوترس کا کہنا تھا کہ ایرانی اتحادی حوثی باغیوں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی صدر عبد ربو منصور ہادی کے درمیان سیاسی مذاکرات کے معاملے پر اگلے مرحلے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

مغربی ممالک، جن میں سے کچھ 2015 میں یمن میں مداخلت کرنے والے سعودی اتحاد کو اسلحہ اور انٹیلی جنس فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے خاتمے کے لیے ایک وسیع پیمانے پر معاہدے اور سیاسی عمل پر اعتماد سازی کے اقدامات پر اتفاق کریں۔

یاد رہے کہ یمن میں جاری تنازع میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور جزیزہ نما عرب کا سب سے غریب ملک یمن قحط کے دہانے پر موجود ہے۔

ادھر ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا تھا کہ حدیدہ معاہدہ شدید بھوک کا شکار ایک کروڑ 20 لاکھ یمنیوں کو خوراک پہنچانے کے ان کے مشن کے لیے بہت ضروری تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیوترس کا کہنا تھا کہ آپ حدیدہ بندرگاہ اور شہر کیلئے ایک معاہدے پر پہنچے، جو بندرگاہ اور شہر سے باہمی طور پر فورسز کی واپسی کا باعث بنے گا اور وسیع پیمانے پر جنگ بندی کا قیام عمل میں آئے گا۔

رمبو میں نیوز کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ بندرگاہ میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

Check Also

افغان پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے اپنے ہی 7 ساتھیوں کو قتل کر ڈالا

قندھار: افغان پولیس اہلکار نے اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کر کے 7 اہلکاروں کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *