ٹیسٹ کی کپتانی سرفراز کے بس کی بات نہیں

(پی پی این مانیٹرنگ ڈیسک) انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کا کوئی میچ چل رہا تھا۔ سنیل گواسکر کمنٹری مائیک پہ تھے۔

گفتگو ہو رہی تھی ٹی ٹؤنٹی لیگز کے اثرات پہ اور ساتھی کمنٹیٹر کا یہ کہنا تھا کہ آئی پی ایل نے انڈیا کے لیے سلیکشن کے آپشنز بڑھا دیے ہیں اور کئی ایک اچھے پلئیرز دیے ہیں۔

سنیل گواسکر پوری بات سننے کے بعد گویا ہوئے،بجا کہا کہ کئی ایک اچھے پلئیرز ان ٹی ٹؤنٹی لیگز نے پیدا کیے ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ٹی ٹؤنٹی کا بہترین پلئیر بھی ون ڈے کا اچھا پلئیر نہیں بن سکتا، نہ ہی ون ڈے کا اچھا پلئیر ٹیسٹ کا کھلاڑی بن سکتا ہے۔

جب کہ ٹیسٹ کرکٹ جو پلئیر پیدا کرتی ہے، ان میں پوری صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ مختصر فارمیٹ کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔

سنیل گواسکر کی یہ تھیوری ہرگز کسی مفروضے پہ مبنی نہیں ہے۔ ریاضیاتی پیمانے سے ہی جانچا جائے تو تین گھنٹے کے کھیل میں ماہر پلئیر کے لیے واقعی یہ مشکل ہوتا ہے کہ وہ آٹھ گھنٹے کے کھیل میں اپنے مزاج پہ قابو رکھ سکے۔

ایک دن کے کھیل کا ماہر جب پانچ روزہ کرکٹ میں اترے گا تو اس کے لیے بھی اپنے اعصاب مجتمع رکھنا بہت دشوار ہو گا۔

پاکستان کرکٹ نے بہرطور اس مروجہ دانش کے برخلاف ٹی ٹؤنٹی کو بنیاد بنا کر ون ڈے اور ٹیسٹ کی نہ صرف ٹیمیں تشکیل دے دیں بلکہ کپتانی کے ساتھ بھی یہی برتاؤ کیا۔

سرفراز احمد ٹی ٹؤنٹی کے بہترین کپتان ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی قیادت جب انہوں نے سنبھالی تو بجا طور پہ ٹی ٹؤنٹی میں آفریدی کے بعد انہیں قومی ٹیم کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ بالکل درست تھا۔ رینکنگ بھی اس کی دلیل ہے۔

 

Check Also

انضمام الحق کا چیف سلیکٹر قومی ٹیم کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان

قومی ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے چیف سلیکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہونے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *