’خاشقجی قتل میں سعودی ولی عہد کے براہ راست ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے‘

واشنگٹن(پی پی این مانیٹرنگ ڈیسک)  امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے دعوی کیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے براہ راست ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

صحافی جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018 کو ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

مائیک پومپیو نے واضح کیا کہ جمال خاشقجی کے قتل کے حکم میں سعودی ولی عہد ملوث نہیں ہیں۔

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ نے مشرق وسطیٰ میں قائم امن کے لیے سعودی عرب کے کردار پر زور دیا۔

وال اسٹریٹ جنرل میں شائع ایک تحریر میں انہوں نے لکھا کہ ’سعودی ولی عہد نے ملک کو انقلابی سمت میں لے کر گئے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عراق کی ناگفتبہ جمہوریت کو محفوظ بچانے اور بغداد کو مغربی مفاد سے جھوڑنے کی کوشش کررہا ہے ناکہ ایران کے۔

اس ضمن میں انہوں نے مزید کہا کہ ریاض میزبان ممالک اور مصر کے ساتھ ملکر جنگ زدہ ملک سے نقل مکانی کرنے والے شامی باشندوں کی مدد کررہا ہے۔

 

Check Also

افغان پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے اپنے ہی 7 ساتھیوں کو قتل کر ڈالا

قندھار: افغان پولیس اہلکار نے اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کر کے 7 اہلکاروں کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *