آسٹیرٹی ۔۔۔۔۔ معیشت۔۔۔۔۔ اور عمران خان

 تحریر :  ڈاکڑ علی ملک

مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کرہ ارض پہ اپنا خاص مقام اور حیثیت رکھتا ہے ۔ دنیا میں ایک سپر پاور کو تورنا ہو یا ایٹمی صلاحیت رکھنا ہو یا حالیہ سی پیک کے تناظر میں آنے والے وقت میں دنیا میں طاقت کی نئی سمت متعین کرنا ۔ پاکستان کو عالمی اقوام کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کر سکتی ۔ لیکن اسکے باوجود اپنے قیام سے تا دن پاکستان ہمیشہ سے اندرونی و بیرونی مسائل میں گھرارہا ہے اور ہمیشہ اللہ پاک کے خاص کرم کی وجہ سے مسائل سے باہر بھی آتا ہے اور کیسے نہ ہو 27 رمضان کی بابرکت رات وجود میں آنے والا واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پے بنایا گیا جس کی بنیادوں میں ’’لاَ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ ‘‘کا نعرہ شامل ہے اور یہ نہ صرف ہمارا ایمان ہے بلکہ حقیقت بھی ورنہ 70 سال سے جو کچھ اس ملک کے ساتھ ہوا ہے اگر امریکہ جیسی سپر پاور کو بھی ایسے داخلی و خارجی بحرانوں کا مسلسل سامنا ہوتا تو وہ کب کی ٹوٹ پھوٹ گئی ہوتی ۔ اور آج بھی اس ملک میں جہاں ایک طرف شدید خارجی بحران ہیں جہاں دنیا ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہمارا سفاک دشمن سرحدوں کیساتھ ساتھ سفارتی محاز پہ بھی ہمارے خلاف بڑی بڑی سازشین کر رہا ہے تو دوسری جانب اندرونی مسائل جن میں دہشت گردی ، لوڈ شیڈنگ ، آبی بحران کے ساتھ ساتھ شدید معاشی بحران کا سامنا ہے ۔ بلاشبہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے تیسرے سب سے بڑے معاشی بحران سے گزر رہا ہے جہاں بیرونی قرضے 30 ہزار ارب ڈالرز کا نمبر لیے تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہے ہیں تو اندرونی قرضے بھی دن بدن سر اٹھا رہے ہیں جس کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر روز گرتے چلے جا رہے ہیں ایمپورٹ ایکسپورٹ ڈیفسٹ بھی تاریخ کی بلندیوں کو چھو رہا تو دوسری جانب روپے کی قدر میں دن بہ دن گراوٹ آ رہی ہے اور بجٹ خسارہ 2۔7 کی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے اس قدر بدترین معاشی بحران میں پاکستان میں عمران خان کی صورت میں ایک نئی حکومت نے اس ملک کی باگ دوڑ کو سنمبھالا ہے ۔اور تاریخ کے اس بدتر حالات میں وزیراعظم پاکستان کی کرسی سنبھالتے ہی عمران خان نے ایک آسٹیریٹی مہم یعنی سادگی مہم کا اعلان کیا جسکا آغاز جناب وزیراعظم نے خود اپنی ذات سے کیا وزیراعظم ہاوس اور وزرا کے اخراجات کو کم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے وزیراعظم ہاوس کے زیر استعمال 102 گاڑیوں 2 ہیلی کاپٹرز اور چند بھینسوں کی نیلامی ،وزیراعظم ہاوس سٹاف میں کمی پروٹوکول میں کمی کیساتھ ساتھ پر تعیش وعالیشان وزیراعظم ہاوس کی بجائے اپنے ملٹری سیکریڑی کے 3 بیڈروم کے گھر میں رہنے کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ اس پہ عمل پیرا بھی ہوگئے ۔اور اس کے ساتھ ساتھ ہی وزیر اعظم نے مستقبل قریب میں آنے والے آبی بحران کو بھانپتے ہوئے نئے ڈیمز کے لیے چندہ مہم کا بھی آغاز کردیا یہ وہ کام ہیں جو اس ملک کی تاریخ میں کبھی بھی سرکاری سطح پہ نہ ہوئے تھے۔ 70 سال سے قرضوں میں ڈوبے اس غریب اور تیسری دنیا کہلائے جانے والے ملک کے حکمران عظیم بادشاہوں کی طرح رہنے کے عادی ہونے کیساتھ ساتھ لاکھوں روپے مالیت کے لباس اور جوتے زیب تن کرنے کے شوقین رہے ہیں وہاں اچانک ایک ایسا وزیراعظم آ ٹپکا ہےجو ایک طرف تو تصویر بنانے کے لیے فوٹوگرافر سے واسکوٹ ادھارلیتا ہے تو دوسری جانب 11 سو کنال کے محل کو لات مار کر 2 کنال کے گھر میں آبستا ہے اور ساتھ میں امریکی وزیر سے سادہ سی شلوار قمیض میں نہایت پراعتماد اور باوقار انداز میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرملاقاتیں کرتا ہے تو ایک دم سے اس ملک کے الیکٹرونک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا پہ جیسے طوفان برپا ہوگیا ہے ارے کون دیوانہ ہے کیا بچوں والی حرکت کرتا ہے بھلہ یہ 102 گاڑیاں 8 بھینسیں اور 500 ملازمین کا چند کروڑ کا خرچہ بچا کے 30 ارب ڈالر سے زاہد کا قرضہ اور 14 سو ارب کا ڈیم کیسے بنائے گا یا تو یہ پاگل ہے یا پھر قوم کو پاگل سمجھتا ہے ۔ آخر ماجرا کیا ہے جب راقم نے اس بات کی جانب غور کیا تو سیدھا اسکا خیال اس کے ایک اور بیان کی جانب گیا کہ’ میں اس ریاست کو ریاست مدینہ کی طرز پہ چلاوں گا’ اور یقیناً دیوانے کی اس بات پہ بھی ملک بھر کے دانشوروں نے اسکا بہت مزاق اڑایا ۔ بلاشبہ ان چند کروڑ کی بچت سے پاکستان کی معیشت کو کوئی خاص فائدہ نہیں لیکن ریاست مدینہ کی طرز کیمطابق سوچییں تو پتہ چلتا ہے کہ 12 ہزار مربع میل پہ حکومت کرنے والا ریاست مدینہ کا حاکم اپنے جوڑے میں 12 پیوند لگوائے پھرتا ہے ۔ جہاں رسولوں کا رسول جو جب چاہے عرش معلی کی سیر کو نکل پڑے وہ نرم و گداز تکیے کی بجائے پتھر پہ سر رکھ کے سوتا ہے اور گلیوں میں پیدل دو دو دن کی بھوک لیے لوگوں کی خدمت کرتا ہے حالانکہ وہ چاہتا تو اسکی خاطر جنت سے کھانے اور جوڑے اتر سکتے تھے وہ چاہتا تو دنیا جہان کا سونا چاندی ریشم اسکے قدموں پہ نچاور ہوتا لیکن نہیں اس نے پیوند لگے جوڑے کو ترجیح دی وجہ صرف یہی تھی کہیں دوسروں کے لیے ایسی مثال نہ چھوڑ جاوں کہ وہ بچارے اپنی حالت اور تنگی داماں پہ روتے نہ رہ جائیں کہیں ٹھاٹ باٹ سے کسی اور کی محرومیاں نہ جاگ جائیں کہیں رعایا خود کو حاکم سے کمتر نہ سمجھنے لگ جائے۔ اور اس وجہ سے انہوں نے اپنے عمل سے رہتے وقت کی دنیا کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات چھوڑا جسکو اسوہ حسنہ کہتے ہیں۔ اب چونکہ پاکستان کے حاکم وقت نے اسی اسوہ حسنہ پہ عمل کرنے کی ٹھانی ہے تو یہ تو کرنا ہوگا اور یی عمل ایک symbolic یعنی مثالی عمل ہے اس سےاس ملک کی اشرافیہ اور غریب کو بتانا ہے کہ کسی میں کوئی فرق نہیں اس ملک کے شہری کو یہ اعتماد دلانا ہے کہ وہ بلا خوف و خطر ملک کا tax payer بنے اب اس کے حق حلال کی کمائی کے پیسے کو کوئی حکمران اپنی ٹھاٹ باٹ پہ نہیں لٹائے گا سات سمندر بار گھر سے دور محب وطن جو دن رات دیار غیر میں محنت کر کے پیسہ کماتے ہیں لیکن ڈرتے ہیں اگر اپنے ملک پیسے بھیجیں گیں تو حکمران عیاشیوں میں لٹا دیں گے اسکو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ اب ریاست ایک ماں کے جیسے اسکا خیال کرے گی اور اس سادگی مہم سے بھلے چند کروڑ آئیں لیکن اس کی کام

Check Also

آرمی چیف نے مدارس کے طلبا سے کیا کہا؟

مدارس کا مستقبل روشن ہے یا تاریک؟ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *