تخت لاہور سے راجن پور تک

 

تحریر : ڈاکٹر علی ملک

 راجن پور ایک ایسا ضلع جوکہ نہ صرف فاصلے کے لحاض سے لاہور سے سب سے دور ہے اسکے علاوہ راجن پور اور لاہور کی ترقی کا فاصلہ بھی سب سے زیادہ ہے جہاں ایک طرف تخت لاہور میں اربوں کھربوں کے منصوبے جاری ہیں تو دوسری طرف راجن پور تعلیم صحت پانی صفائی جیسی بنیادی ضروریات سے لاعلم ہےآج اکیسویں صدی میں بھی راجن پور ضلع اٹھارویں صدی میں موجود ہے۔اور جب بھی اس ضلع میں تخت لاہور سے کسی وائسرے کو یہاں تعنات کیاجاتا ہے تو وہ شروع میں بہت پریشان ہوتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اسے راجن پور نہ جانا پڑے لیکن راجن پور آکر یہاں کے وائسرائے (ڈپٹی کمشنر) کا چارج سنمھالتے ہی اس کے تیور دن بدن بدلنے لگتے ہیں۔ نہ تو کوئی پوچھنے والا نہ کوئی سوال اٹھانے والا ، بادشاہ سلامت جیسا پروٹوکول عیش و عشرت کیساتھ ساتھ یہاں کی غربت اور پسماندگی کو دیکھ کر اپنا آپ اور بڑا لگنے لگ جانا اور اسکے ساتھ ساتھ سونے پہ سوہاگا یہ کہ دولت کا انبار جی ہاں کیونکہ یہاں کا ڈپٹی نہ کسی کو جوابدہ ہے اور نہ کوئی سوال کرنے والا تو اس طرح یہاں تعنات ہونے والے بابو کچھ ہی دن میں اتنا بٹور لیتے ہیں جتنا وہ اپر پنجاب میں کئی سال لگا کر جمعہ کرتے ہیں اس سب کیساتھ ہی ان بابو لوگ کو راجن پور کا نشہ لگ جاتا ہے اور پھر انکا دل نہیں کرتا کہ یہاں سے ٹرانسفر ہوں ۔ بھلہ ایسی ٹھاٹ باٹ اور ایسی شان و شوکت والی ڈپٹی کمشنری جہاں نہ کام کاج کرنے کا پریشر ہو نہ ہی لوٹ کھسوٹ کی روک تھام اور نہ یہ کسی نااہلی کی پوچھ تاچھ تو بھلہ کون پاگل ہوگا جو یہاں سے کوچ کرنا چاہے گا۔ یہی وہ مائند سیٹ ہے جوکہ انگریز نے برصغیر میں قائم کرکے کئی سو سال یہاں حکومت کی پھر یہی انداز اپناتے ہوئے تخت لاہور نے اس خطہ پے قدم جمائے ۔ اب جب کہ حالیہ الیکشن میں پہلی دفعہ الگ صوبہ کی آواز نے زور پکڑا اور اس نعرے نے جنوبی پنجاب میں پزیرائی کیساتھ ساتھ کلین سویپ کیا تو تخت لاہور میں لرزاں طاری ہو گیا ہے کیونکہ یہ پہلی دفعہ ہے کہ پنجاب کی حکومت میں بالائی پنجاب کی اکثریت شامل نہیں ہے اور تخت لاہور پہ کوہ سلیمان کا بیٹا بیٹھ گیا ہے ۔ اور اس بات سے سب واقف ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبہ تحریک کو اس لیول تک اٹھانے میں سردار نصراللہ خان دریشک کا بنیادی اور کلیدی کردار ہے۔ الگ صوبہ کی تحریک میں سب کو یکجا کرنا اور ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا اور ملک کی بڑی جماعتوں کو اپنے حقوق جتوانا اور یہاں کی محرومیوں کو اجاگر کرنا بلاشبہ یہ سب سردار نصراللہ خان صاحب کی غیرمعمولی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اب جب سردار نصراللہ خان نے تخت لاہور میں اتنا بڑا زلزلہ پرپا کیا ہے تو تخت کے سابقہ حکمران اور انکی گماشتہ اور شریک حکمران بیوروکریسی کو دریشک صاحب پہ بہت زیادہ غصہ ہے اور اسکا بدلہ لینا بھی بنتا ہے اور اس سلسلہ میں پہلے سردار عثمان کو پاکپتن معاملے میں بدنام کرنے کی کوشش کی اور اسکے بعد انکا دوسرا حدف صوبہ تحریک کے بانی سردار نصراللہ خان ہیں۔ اور انکو نشانہ بنانے کے لیے تخت لاہور کے ایجنٹ ڈپٹی کمشنر کا استعمال کیا گیا۔ کتنے تعجب کی بات ہے جس صوبہ میں پچھلے دس سال سے روزانہ ایک شخص سنیر بیوروکریٹس کو انگلی ہلا ہلا کے نچواتا تھا جب دل کرتا تھا جس کو چاہے معطل کرتا تھا تو انکو تکلیف نہیں ہوئی لائیو ٹی وی پہ بے عزت کیا جاتا تھا انکو فرق نہیں پڑا نہ ہی انکو کوئی مداخلت محسوس ہوئی اور آج اچانک DPO کے تبادلے پہ وزیراعلی کے خلاف محاذ کھڑا ہے تو دوسری جانب منتخب MNA اور سنیئر ترین سیاستدان پہ من گھڑٹ الزام لگا کر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اگر حقائق دیکھے جائیں تو جس BMP اہلکار کے تبادلے کی سفارش کا الزام لگایا گیا ہے اس پر نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کیساتھ ساتھ اسلحہ اور چوری کے موٹر سائیکلز کی سمگلنگ کے الزامات کیساتھ ساتھ 6 FIR’s درج ہیں اور ایسے شخص کو عہدے سے ہتانے کی بجائے DC صاحب اس کو بچانے کے لئے لاکھون ووٹ لے کر منتخب ہونے والے ممبر قومی اسمبلی پہ الزامات لگا رہے ہیں ۔ کیا عوامی نمائندوں کا یہ کام نہیں کے وہ معاشرے کے ایسے ناسوروں کو بے نقاب کریں ۔ وہ اپنے علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے بنائے جانے والے منصوبوں کیساتھ ساتھ عوام کو درپیش مسائل اور انکی شکایات وائسرائے صاحب تک پہنچائے ۔ کیا 3 MNA اور 5 MPA کی جگہ یہ اکلوتے وائسرائے صاحب زیادہ سمجھدار اور مسائل سمجھنے والے ہیں ۔ کیا یہ عوامی ملازم عوامی نمائندوں سے بالاتر ہیں ۔ ؟؟؟؟؟ کیا یہ وائسرائے نظام ایسے ہی چلتا رہے گا ؟؟؟ کیا عثمان بزدار اور نصراللہ خان کا دوش جنوبی پنجاب کی آواز ہونا ہے ؟ جنوبی پنجاب بلخصوص راجن پور کی عوام اب جاگ چکی ہے وہ نہ صرف تخت لاہور کے ایجنٹس کا محاسبہ اور حساب کریں گے بلکہ اپنے نمائندوں اور اپنے ووٹ کی عزت اور تکریم کی جنگ بھی لڑیں گے۔

 

Check Also

’کاں‘ اچانک ’چٹا‘ کیوں ہو جاتا ہے؟

کوے کا شمار انتہائی ذہین و فطین پرندوں میں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *