پہلے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کا فیصلہ کیا جائے،اس کے بعد ججز کے بارے میں ریفرنس کی سماعت کی ہو

سپریم کورٹ کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی سماعت کرنے والی سپریم جوڈشل کونسل کے سربراہ اور ملک کے چیف جسٹس پر اعتراض اُٹھایا ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف خود ریفرنس دائر ہوا ہے اور وہ کیسے کسی جج کے خلاف ریفرنس کی سماعت کرسکتے ہیں۔

ان وکلا کا کہنا تھا کہ پہلے چیف جسٹس کے خلاف جو ریفرنس دائر کیا گیا ہے اس کا فیصلہ کیا جائے اور پھر اس کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے بارے میں ریفرنس کی سماعت کی جائے۔

منگل کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی سماعت شروع کی تو سپریم کورٹ کے وکیل طارق اسد اور چند دیگر وکیل روسٹم پر آئے۔

طارق اسد نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے اُن کے (میاں ثاقب نثار) کے خلاف ریفرنس دائر رکھا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس ریفرنس میں پاکستان کے چیف جسٹس کے خلاف بڑے سنجیدہ نوعیت کے الزامات ہیں جن کے ناقابل تردید شواہد بھی موجود ہیں لہذا پہلے اس ریفرنس کا فیصلہ کیا جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بینچ کے سربراہ نے طارق اسد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ایسا کوئی ریفرنس نہیں ہے اور جب ریفرنس سامنے آئے گا تو پھر اس معاملے کو دیکھا جائے گا۔

طارق اسد کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بہت پہلے دائر کیا تھا لیکن اسے سماعت کے لیے منظور نہیں کیا گیا۔

اس موقع پر طارق اسد اور سپریم جوڈشل کونسل کے ممبران کے درمیان کچھ تلخی بھی دیکھنے کو ملی اور طارق اسد کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی کارروائی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس ائی کی ایما پر چلا رہی ہے۔

جسٹس صدیقی

اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان روسٹم پر آئے اور کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے گذشتہ سماعت کے دوران ان کی جو تین درخواستیں مسترد کی تھیں اس بارے میں جو عدالتی حکم نامہ ہے وہ بڑا مبہم ہے۔

بینچ کے سربراہ نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کو درست کرلیں، جس پر جسٹس شوکت صدیقی کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کو درست کرنے کی جسارت نہیں کرسکتے، لہذا یہ کام سپریم جوڈیشل کونسل کے معزز ارکان خود ہی کریں۔

حامد خان اپنے موکل کے خلاف درخواست دائر کرنے والے شخص علی انور گوپنگ سے جرح کرنے لگے تو اُنھوں نے کچھ دستاویزات مانگی جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ دستاویزات ان کے پاس نہیں ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ چونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے خلاف ریفرنس اس وقت کے اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے تیار کیا تھا اس لیے یہ دستاویزات ان کے پاس ہیں۔

عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ سابق اٹارنی جنرل ملک سے باہر ہیں اور ان کی واپسی پر ہی یہ دستاویزات مل سکتی ہیں جس پر سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ نے اس ریفرنس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر الزام ہے کہ اُنھوں نے اسلام آباد میں اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تزین و آرائش کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا تھا۔

Check Also

وزیراعظم کا جرمن چانسلر کو ٹیلیفون، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گفتگو

وزیراعظم عمران خان نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ٹیلیفونک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *