روپے کی ریکوری؛ سونے چاندی روئی کی قیمتوں میں کمی، اسٹاک مارکیٹ چڑھ گئی

 کراچی: امریکی ڈالر کے مقابل روپے کی ریکوری کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث پیر کو سونے چاندی اور روئی کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور اسٹاک مارکیٹ چڑھ گئی۔

گزشتہ 5 دنوں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 4700 روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت میں مجموعی طورپر4029 روپے کی ریکارڈ کمی ہو چکی ہے۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 1224 ڈالر کی سطح پر مستحکم رہنے کے باوجود مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 1850 اور 1586 روپے کی مزید نمایاں کمی ہوئی جس کے نتیجے میں کراچی حیدرآباد سکھر ملتان فیصل آباد لاہور اسلام آباد راولپنڈی پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت گھٹ کر54 ہزار500 اور فی دس گرام سونے کی قیمت گھٹ کر 46 ہزار 725 روپے پر آگئی، اسی طرح سے صرف پیر کے دن سونے کی قیمت میں 3.28 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔  دوسری طرف چاندی کی قیمت بھی 40 روپے کمی سے 720 روپے اور 10گرام 34.29 روپے کی کمی سے 617.28 روپے ہوگئی۔

دریں اثناء  ڈالر کی قدرمیں تسلسل سے غیر معمولی کمی نے پاکستانی کاٹن مارکیٹس کو اپنی لپیٹ میں لے لیااور گزشتہ4 دن میں فی من روئی کی قیمت میں700 روپے یا7.3فیصدکی کمی ہوئی ہے جس کے باعث فی من روئی کی قیمت گھٹ کر8 ہزار 900 روپے کی سطح پر آگئی ہے،کاٹن میں تبدیل ہونے والی اس صورتحال کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان نے روئی کی خریداری معطل کردی ہے جبکہ پہلے سے مہنگے داموں خریدی گئی روئی کی تقریباً 20 ہزارگانٹھوں کے خریداری معاہدے بھی غیر اعلانیہ طور پر منسوخ کر دیے ہیں،روئی کی تسلسل سے گرتی ہوئی قیمتوں نے کاشتکاروں اور کاٹن جنرز میں تشویش کی لہر پیدا کردی ہے۔

چیئر مین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ عام انتخابات کے بعد چین کی جانب سے 2 ارب ڈالر اور اسلامک ڈیولپمنٹ بینک کی جانب سے 4.50 ارب ڈالر کے قرض جاری کرنے کے اعلان کے باعث روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ہونے والی غیرمتوقع کمی کے باعث پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں غیرمعمولی کم کا رجحان سامنے آیا، روئی کی قیمتیں 9 ہزار 600 روپے سے کم ہو کر پیر کی صبح تک 8 ہزار 900 روپے فی من تک گر گئیں لیکن ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی کے رجحان کے باعث بیشتر ٹیکسٹائل ملز مالکان نے روئی کی خریداری معطل کرنے کا اعلان کر دیا جس سے ملک بھر کی کاٹن مارکیٹس میں زبردست تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا تسلسل برقرار رہا توچند روز کے دوران روئی اور پھٹی کی قیمتیں مزید گر سکتی ہیں، روئی کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی کے رجحان کی وجہ سے سندھ اور پنجاب کے بیشتر شہروں میں بعض ٹیکسٹائل ملز مالکان نے 9 ہزار 200 سے 9 ہزار 600 روپے فی من کے حساب سے کیے گئے روئی کے 20 ہزار بیلز سے زائد کے سودے بھی غیراعلانیہ طور پر منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے کاٹن جنرز کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس سے پھٹی کی قیمتوں اور خریداری رجحان میں بھی غیر معمولی کمی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیرکو بھی زبردست تیزی کا تسلسل برقرار رہا جس کے نتیجے میں 43000 کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی اور74 فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیاجبکہ مارکیٹ کیپٹل 1کھرب69 ارب 98 کروڑ روپے بڑھ گیا۔

عام انتخابات کے بعد شروع ہونے والا تیزی کا رجحان پیر کو بھی جاری رہا اورحکومتی مالیاتی اداروں، مقامی بروکریج ہاؤسز سمیت دیگر انسٹی ٹیوشنزکی جانب سے بینکنگ، توانائی،کیمیکل، سیمنٹ اور دیگر سیکٹر میں حصص کی خریداری میں غیرمعمولی دلچسپی کے سبب زبردست تیزی دیکھنے میں آئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس 42800، 42900، 43000، 43100، 43200، 43300، 43400 اور43500 کی نفسیاتی حدیں یکے بعد دیگرے بحال ہو گئیں اورٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پرانڈیکس 43604 پوائنٹس پربھی دیکھا گیا تاہم پرافٹ ٹیکنگ کے باعث انڈیکس معمولی نیچے آیا، مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس770.18 پوائنٹس کے اضافے سے 43556.63پوائنٹس پر بند ہوا۔

کے ایس ای 30 انڈیکس 392.93پوائنٹس بڑھ کر 21728.88 پوائنٹس،کے ایم آئی 30 انڈیکس 1556.03پوائنٹس کے اضافے سے 73728.09پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس 590.79 پوائنٹس بڑھ کر 31304.20پوائنٹس پر بند ہوا، کاروباری حجم جمعہ کی نسبت1.96فیصدکم رہا اور مجموعی طور پر 37کروڑ 79 لاکھ 33 ہزار 440 حصص کے سودے ہوئے، گزشتہ روز 400کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہواجن میں سے 296 کمپنیوں کے حصص کے بھاؤمیں اضافہ،91 کی قیمتوں میں کمی جبکہ13کمپنیوں دام میں استحکام رہا، تیزی کے باعث مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت 1کھرب69 ارب 98 کروڑ 88 لاکھ 76 ہزار 279 روپے بڑھ کر 88 کھرب 60 ارب 53 کروڑ81 لاکھ 33 ہزار 640 روپے ہوگئی۔

قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے حساب سے نیسلے پاکستان کے حصص سرفہرست رہے جس کے حصص کی قیمت496.82روپے اضافے سے 10990روپے اور کولگیٹ پامولیوکے حصص کی قیمت 144.50روپے اضافے سے3034.50روپے پر بند ہوئی، نمایاں کمی واتھ پاک کے حصص میں ریکارڈ کی گئی جس کے حصص کی قیمت 48.79روپے کمی سے 1370.80 اور آرکوما فارما کے حصص کی قیمت 16.74روپے کمی سے 498.26پر بند ہوئی، پیر کو ورلڈ کال ٹیلی کام کی سرگرمیاں 3 کروڑ 51 لاکھ 38 ہزار 500 شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہیں اورپاک انٹرنیشنل بلک کی سرگرمیاں 1کروڑ 96 لاکھ 13ہزار500 شیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔

واضح رہے کہ 25 جولائی کو عام انتخابات کے بعد سے پاکستانی معیشت پر بحال ہونے والا سرمایہ کاروں کا اعتماد مسلسل ڈالر کو دباؤ میں لیے ہوئے ہے جس سے مارکیٹس میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

Check Also

آئی ایم ایف کے معاشی پیکج کی طرف سے پاکستان کو 99 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز کی پہلی قسط موصول

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 6 ارب ڈالر کے معاشی پیکج کے تحت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *