پی ٹی آئی فرنیچر سیکٹر کی سرپرستی کرے گی، چوہدری سرور

 لاہور:  سابق گورنر پنجاب سینیٹر چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت سازی کے بعد ملکی فرنیچر کی صنعت کی سرپرستی کرنے اور نئی اختراعات اور ڈیزائنوں کے ساتھ عالمی منڈیوں میں موثر مقام بناکر اربوں ڈالر سالانہ برآمدات میں اضافہ کرے گی۔

لاہور میں پاکستان فرنیچر کونسل کے دفتر میں کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں محمد کاشف اشفاق کے ساتھ ملاقات کے دوران انھوں نے کہا کہ حکومت اس شعبے کے ساتھ روابط میں اضافے، مارکیٹ کی صورتحال و صنعت کی بہتری، ضروریات کے ادراک اور انھیں پورا کرنے کے لیے اقدامات کرے گی، اس صنعت کی صورتحال اور مسائل سے آگہی اور ان کے بہتر حل کے لیے حکومت اور اس شعبے کے درمیان روابط انتہائی ضروری ہیں، ہمارا ملک ہرسال غیر ملکی فرنیچر مصنوعات کی درآمد پر بھاری زر مبادلہ خرچ کرتا ہے جسے اس شعبے کی حوصلہ افزائی اور برآمدات کو فروغ دے کر کمایا جاسکتا ہے۔

چوہدری محمد سرور نے کہا کہ وہ فرنیچر کی صنعت کی حمایت اور اس کے فروغ کے لیے سینیٹ میں بھی آواز اٹھائیں گے اور اس ضمن میں دیگر سینیٹرز سے بھی بات کریں گے تاکہ اس شعبے کے تمام فریقوں سے مل کر اسے باقاعدہ صنعت کا درجہ دینے اور پیداواری صلاحیتوں میں اضافے کے لیے لائحہ عمل کی تشکیل میں ان کی معاونت حاصل کی جاسکے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ فرنیچر کے کاروبار کی معاونت کے لیے گرانٹ کے حصول کے لیے متعلقہ حکام سے بھی بات کریں گے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ نمائشوں اور کاروباری شوز کے ذریعے ملکی فرنیچر کی برآمد میں اپنا کردار زیادہ موثر انداز میں ادا کرسکیں۔

اس موقع پر پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں محمد کاشف اشفاق نے کہا کہ تارکین وطن کو قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ فرنیچر کی تیاری میں استعمال ہونے والی جدید مشینین ملک میں متعارف کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فرنیچر کونسل نے ٹیوٹا کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت وہ لکڑی کا کام کرنے والوں کو سائنسی بنیادوں پر تربیت فراہم کرے گا، دونوں ادارے لکڑی کے کاریگروں کی تربیت کے لیے مل کر بین الاقوامی تربیت کاروں کی خدمات حاصل کریں گے۔

میاں محمد کاشف اشفاق نے کہا کہ ہمیں اپنی معیشت کو ہماری اپنی افرادی قوت سے چلانا ہے تاہم اس سلسلے میں ماہرین کی قلت کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فرنیچر کے شعبے کے تحفظ کیلیے پالیسی سازی کی ضرورت ہے، اس وقت ہم چینی مارکیٹ کا ہی مقابلہ نہیں کرسکتے جس کی وجہ اس کے کاریگروں کی مہارت اور مصنوعات کی مناسب قیمتیں ہیں، وہاں تکنیکی تربیت کیلیے ہزاروں اسکول موجود ہیں جہاں حکومتی معاونت سے ہرسال11 ملین افراد تربیت کیلیے داخل ہوتے ہیں۔

Check Also

آئی ایم ایف کے معاشی پیکج کی طرف سے پاکستان کو 99 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز کی پہلی قسط موصول

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 6 ارب ڈالر کے معاشی پیکج کے تحت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *