ترکی میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ

انقرہ: ترکی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ساتھ ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا۔

ترکی کے مقامی وقت کے مطابق پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہے گی اور پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے تک ووٹنگ کا عمل جاری رہے گا۔

ووٹنگ کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 6 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جس میں 5 کروڑ 60 لاکھ مقامی شہری اور تقریباً ساڑھے 30 لاکھ بیرون ملک مقیم شہری پہلے ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کرچکے ہیں۔

ترکی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ایک ساتھ ہورہے ہیں اور صدارتی انتخاب کے لیے رجب طیب اردوان سمیت 6 امیدوار  میدان میں ہیں جن میں محرم اِنجے، میرل ایکسینر، سلاحیتن دیمارتس، تیمل، دوگو پرینسک شامل ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق رجب طیب اردوان کی جیت کے واضح امکانات ہیں تاہم حزب اختلاف کے رہنما محرم اِنجے انھیں مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔

2016 کی ناکام فوجی بغاوت اور صدارتی اختیارات میں اضافے کی ترامیم کے بعد الیکشن کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے تاہم فوج اور اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں سمیت اہم اختیارات نئے صدر کو ترکی کا مضبوط ترین سربراہ بنا دیں گی۔

 صدارتی انتخابات میں کسی امیدوار کا 50 فیصد سے زائد ووٹ لینا ضروری ہے اگر کوئی ایک امیدوار یہ ہدف حاصل نہ کر سکا تو پھر زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں میں ایک بار پھر 8 جولائی کو مقابلہ ہوگا۔

Check Also

افغان پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے اپنے ہی 7 ساتھیوں کو قتل کر ڈالا

قندھار: افغان پولیس اہلکار نے اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کر کے 7 اہلکاروں کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *