حکومت کے آخری لمحات،ٹیکس ریٹنز کی مد میں 31 ارب 30 کروڑ روپے جاری

اسلام آباد (پاکستان پبلک نیوز مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 5 سالہ مدت کے اختتام سے چند گھنٹے قبل تاجروں اور برآمد کنندگان کی ادائیگیوں کے لیے سیلز ٹیکس ریٹرنز کی مد میں 31 ارب 30 کروڑ روپے جاری کردیئے جبکہ دوسری جانب محصولات کی مد میں ہونے والی آمدنی کو خسارے کا سامنا ہے۔

اس ضمن میں وزارت خزانہ نے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کو ان دعویداروں کی فہرست تیار کرنے کی ہدایات جاری کیں جنہیں یہ فنڈز ادا کیے جانے تھے، جس پر ایف بی آر نے فوری طور پر فہرست مرتب کردی، اور ادا کی جانے والی رقم 24 گھنٹوں میں ٹیکس دہندگان کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوجائے گی۔

خیال رہے کہ 31 مئی تک ریفنڈ کی گئی رقم 85 فیصد اضافے کے ساتھ 100 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران اس مدت میں ادا کی جانے والی ریفنڈ رقم 54 ارب روپے تھی۔

اس حوالے سے تاجروں نے آخری لمحات میں کیے جانے والے اس حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا جبکہ دوسری جانب بھی کہا جارہا ہے کہ ادائیگی کے لیے اس وقت کا چناؤ آئندہ انتخابات کے پیش نظر کیا گیا، جو حکومت کی ایک سیاسی چال ہے۔

دوسری جانب کاروباری شخصیات نے تاجروں کو منانے کے اس حکومتی اقدام کو تنفید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ٹیکس دہندگان کو ریفنڈز کی جانے والی حقیقی ادائیگیوں سے بھی سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

یاد رہے کہ سال 2016 سے سیلز ٹیکس ریفنڈز، 24 گھنٹوں کے دوران ٹیکس دہندگان کے اکاؤنٹس میں براہ راست منتقل ہوجاتے ہیں۔

رواں مالی سال کے 11 ماہ کے دوران محصولات کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی میں 15 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی مالیت جولائی تا مارچ 2018 کے عرصے میں 3 سو 27 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جو گزشتہ مالی سال کے اس عرصے کے دوران 2 سو 85 ارب روپے تھی۔

واضح رہے کہ ایف بی آر نے بجٹ میں محصولات سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ہدف کو نظر ثانی کے بعد 4 ہزار 13 روپے سے گھٹا کر 3 ہزار 9 سو 35 روپے کردیا تھا، جس سے 78 ارب روپے کا خسارہ ظاہر ہوتا ہے، تاہم اب نظر ثانی شدہ ہدف کو پانے کے لیے بھی ایف بی آر کو ماہ جون میں 6 سو 61 ارب روپے جمع کرنے ہوں گے۔

اس حوالے سے ایف بی آر کے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ محصولات کی یہ آمدن، بک ایڈجسمنٹ کے تحت حاصل ہونے والی آمدنی سے علیحدہ ہے۔

ایف بی آر کا مزید کہنا تھا کہ ماہانہ بنیادوں پر حاصل ہونے والی آمدنی مئی 2018 کے دوران 3 سو 51 ارب روپے رہی جو بک ایڈجسمنٹ سے علیحدہ ہے جبکہ اس سے قبل مالی سال میں مئی کے مہینے میں یہ رقم 3 سو 46 ارب روپے تھی۔

ایف بی آر کے مطابق مئی 2018 میں حاصل شدہ آمدنی میں ایک اعشاریہ 44 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ دور دراز علاقوں سے خزانے میں وصول ہونے والی آمدنی سے اس رقم میں معمولی اضافے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ رواں مالی سال کے 11 ماہ کے دوران محصولات کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی کا رجحان، ایف بی آر کی تفویض شدہ سالانہ آمدنی کے اہداف کے ممکنہ حصول کی جانب اشارہ کررہی ہے۔

Check Also

مقبوضہ کشمیر میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کے پوسٹرز آویزاں

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے پوسٹرز …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *