ہفتہ , دسمبر 15 2018

پارٹی کو تباہی سے بچانے کے لیے انٹرا پارٹی الیکشن کرائے جائیں، فاروق ستار

کراچی(پی پی نیوز ڈیسک) ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے پارٹی میں انٹرا پارٹی الیکشن کا مطالبہ کردیا۔

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 13 ستمبر کو رابطہ کمیٹی سے استعفیٰ دیا اور ذاتی وجوہات بتائیں لیکن آج اصل وجوہات بتارہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایم کیوایم جس صورتحال سے دوچار ہے اس کے لیے ضروری ہےکہ رابطہ کمیٹی فی الفور تمام کارکنان اور ذمہ داران کو عزت کے ساتھ 5 فروری کی پوزیشن پر بحال کرے۔

فاروق ستار کا کہنا تھاکہ 25 جولائی کے انتخابات میں ایم کیوایم پاکستان کراچی میں 17 نشستوں سے 4 پر پہنچا دی گئی، آئندہ آزمائش بلدیاتی انتخابات ہیں، اگر تنظیم کو تقسیم اور تباہی سے بچانا ہے، اس کا کھویا وقار واپس لانا ہے تو پانچ فروری کی لائن اگر تقسیم کی تھی تو وہی دوبارہ متحد ہونے کی ہوگی۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ پارٹی تباہی کی طرف چل پڑی ہے، مکمل تباہی سے بچانے کے لیے جتنی جلدی ممکن ہو پارٹی میں انٹرا پارٹی الیکشن کا انقعاد کرایا جائے، موجودہ بدنظمی اور افراتفری کی صورتحال سے نکلنے کے لیے کارکنان سے فریش مینڈیٹ لیا جائے۔

فاروق ستار کا کہنا تھاکہ پتا ہےکہ میری پریس کانفرنس کا بہادر آباد سے جواب آئے گا لیکن کوشش کروں گا اس کا جواب پہلے ہی دے دوں، حادثاتی طور پر 23 اگست کو لندن سے میں نے قیادت لے لی، میں نے پارٹی کو بچایا، ہر کارکن ووٹر اس تاریخی حقیقت کو جانتا اور مانتا ہے، اس بنا پر دل سے میری عزت کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا خالد مقبول صدیقی نے کارکنان سے مینڈیٹ نہیں لیا اور حادثاتی طورپر مجھ سے سربراہی لے لی لہٰذا تنظیم کی موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضہ کرتی ہے جلد از جلد انٹرا پارٹی الیکشن کرایا جائے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ایک فرد واحد نے مجھے ٹارگٹ کرکےنقصان پہنچایا اور ہروایا، مجھ سے 9 نومبر کی پریس کانفرنس کا بدلہ لیا گیا، پریس کانفرنس میں کئی باتوں سے پردہ اٹھایا تھا، میرا دل جلا ہوا ہے،کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

انہوں نے کہاکہ میرا گناہ یہ تھا کہ پی ایس پی کے پروجیکٹ کو میں نے ناکام بنایا،  میری کوششوں سے ایم کیوایم کا ووٹ بینک قائم ہے، ہم ناقص کارکردگی اور کوتاہیوں کی وجہ سے بھی نشستیں ہارے۔

فاورق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نظریاتی پارٹی قائم کرنے کے لیے ایک ایک مہاجر کے پاس جاؤں گا، کارکن او رذمہ داروں کی 5ف روری کی پوزیشن پر بحالی اور انٹرا پارٹی الیکشن کرانا میرا عزم ہے۔

عام انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی کی جانب سے ڈاکٹر فاروق ستار کو ضمنی الیکشن میں ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا جس کے بعد سے انہوں نے پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کررکھی ہے جب کہ وہ رابطہ کمیٹی کی رکنیت سے بھی مستعفی ہوچکے ہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار کئی بار اشارہ دے چکے ہیں کہ انہیں پاکستان تحریک انصاف میں بھی شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔

انتخابات سے قبل ڈاکٹر فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی کے درمیان تنظیمی معاملات کے بارے میں اختلافات شدت اختیار کرگئے تھے اور ایم کیوایم کے دو گروپ بن کر سامنے آئے تھے جن میں فاروق ستار کا پی آئی بی اور خالد مقبول صدیقی کا بہادر آباد گروپ تھا۔

Check Also

6 منزلہ سے زائد عمارتوں کی تعمیر پر پابندی

کراچی  (پی پی این) کراچی میں 6 منزلہ عمارتوں سے زائد کی تعمیر پر پابندی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے