حیدرآباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم کیوایم تنظیم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹرفاروق ستار کا کہنا تھا کہ پارٹی میں دوتہائی اکثریت سے نہیں بلکہ چند لوگ فیصلے کررہے ہیں، عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کو ریوڑیوں کی طرح بانٹا گیا، میرٹ کے بجائے دوستوں، رشتہ داروں اور من پسند افراد کو نوازا گیا، پارٹی کو بچانا ہے تو انٹراپارٹی الیکشن کرانا ہوں گے۔

رہنما ایم کیوایم کا کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی عوام اورکارکنان کا اعتماد کھو چکی ہے، رابطہ کمیٹی کی نام نہاد اکثریت کے رویے سے لگتا ہے کہ آئندہ الیکشن میں انہیں کراچی سے 4 کے بجائے ایک،  دو سیٹیں بھی نہیں ملیں گی،  ہم پارٹی کو بچانے اوراس کی بحالی کے لیے نکلے ہیں، پارٹی کو قبضہ مافیا سے آزاد کرائیں گے اور پارٹی کے بیرونی مخالفین کی طرح تنظیم کے اندر قبضہ مافیا اورمفاد پرستوں سے بھی سیاسی لڑائی لڑیں گے۔

فاروق ستار نے کہا کہ احتساب کے بغیر پارٹی میں کرپشن کاخاتمہ نہیں ہوسکتا، میں خود کوکارکنان کی عدالت میں پیش کرنے کے لیے تیار ہوں، عامر خان اورکنورنوید جمیل بھی  خود کو کارکنان کی عدالت میں پیش کریں۔ عامرخان اور کنورنوید جمیل کارکنوں کے سامنے اپنے گوشوارے پیش کریں اورکارکنان کو بتایا جائے کہ ان کے پاس 1986 میں کتنی پراپرٹی اور بینک بیلنس تھا اورآج کیا ہے؟ کنور نوید کے دور نظامت میں حیدرآباد کو اربوں روپے ملے تھے ان کا حساب بھی دیں۔