حب ریور روڈ پر پولیس گردی کا واقعہ سامنے آگیا جس کی وڈیو وائرل ہونے پر ڈی آئی جی ٹریفک جاوید مہر نے نوٹس لے کر ایس او بلدیہ ٹریفک سیکشن سب انسپکٹر اعظم ، اے ایس آئی یوسف اور ریکارڈ کیپر کو معطل کر دیا۔

منظر عام پر آنے والی وڈیو میں متاثرہ شخص دہائیاں دے رہا ہے کہ ٹریفک پولیس نے اسے تھپڑ مارمارکر اس کے 4 دانت توڑ دیے ،آخر پولیس میرا قصور تو بتائے ،ڈی آئی جی ٹریفک جاوید مہر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی ٹریفک ویسٹ ڈاکٹر نجیب کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے اور تمام حقائق کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوگی اور متاثرہ ڈرائیور کا بھی بیان لیا جائے گا۔

ٹریفک پولیس کے مبینہ تشدد سے متاثرہ شخص کی وڈیو منظر عام پر آنے کے بعد شہری حلقوں کا کہنا تھا کہ اگر متاثرہ شخص نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی بھی تھی تو پولیس کو اس بات کا اختیار نہیں کہ اسے تشدد کا نشانہ بناکر دانت توڑ دے اگر مذکورہ شخص نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی تھی تو اس کا نہ صرف بھاری جرمانہ کیا جاتا بلکہ قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جاتی۔

کراچی پولیس چیف کی جانب سے احکام تو جاری کر دیے جاتے ہیں تاہم سڑکوں پر ٹریفک پولیس کے افسران و اہلکار کیا گل کھلا رہے ہیں اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ، شہریوں کا کہنا ہے کہ مخالف سمیت دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان کرنا اچھی بات ہے لیکن اسے جواز بنا کر گرفتاری کا خوف دلا کر اور بھاری جرمانہ عائد کرنے کی دھمکی دے کر مبینہ طور پر رشوت بھی طلب کی جا رہی ہے۔